معروف سابقہ سپر ماڈل ونیزہ احمد نے بیٹیوں اور بیٹوں کی پیدائش کے حوالے سے پرانی دقیانوسی سوچ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد بہت پڑھے لکھے شخص تھے لیکن پھر بھی وہ چاہتے تھے کہ ان کی پہلی اولاد بیٹا ہو۔ ونیزہ احمد کے اس بیان نے ونیزہ احمد بیٹے اور بیٹیوں پر خیالات کے موضوع پر اہم بحث چھیڑ دی ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ آج کا دور خواتین کے لیے مواقع اور برابری کا ہے۔
تقریب کے دوران ونیزہ احمد نے کہا کہ انہیں بچپن میں یہ محسوس ہوتا تھا کہ والدین کے دل میں بیٹے کی خواہش تھی، جس نے انہیں اس موضوع پر کھل کر بات کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ نہ صرف ان کے خاندان میں بلکہ معاشرے میں بھی پایا جاتا ہے۔
سابقہ ماڈل نے مزید کہا کہ آج کے دور میں لوگوں کے خیالات بدل رہے ہیں اور خواتین کو اپنی قدر اور اہمیت کا احساس ہو رہا ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی کا سفر خود لکھتا ہے اور اپنی کہانی خود تخلیق کرتا ہے، پرانی روایتی سوچ اب کم ہوتی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: شازیہ منظور نے علیزے شاہ کو اسٹیج پر گرانے کے الزامات کی تردید کر دی
ونیزہ احمد نے بتایا کہ اب یہ پرانی باتیں ہو گئی ہیں کہ ہم اپنے ماحول، والدین یا پیسے کی کمی کی وجہ سے محدود ہیں۔ انہوں نے خواتین کو ترغیب دی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ خواتین اپنے فیصلے خود کرتی ہیں اور اپنی تقدیر خود بناتی ہیں۔ اس طرح ونیزہ احمد بیٹے اور بیٹیوں پر خیالات بتاتی ہیں کہ پرانی دقیانوسی سوچ اب بدل رہی ہے اور معاشرے میں خواتین کی برابری اور خودمختاری کو اہمیت مل رہی ہے۔












