جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملے تیز کردیے، جس سے جانی و مالی نقصان ہوا۔ اطلاعات کے مطابق مختلف علاقوں پر فضائی بمباری کی گئی۔ اس کے نتیجے میں کئی گھر تباہ ہوئے اور کم از کم تین افراد شہید ہوگئے۔
مزید برآں، 17 اپریل سے نافذ جنگ بندی کے باوجود حملے جاری رہے۔ اسرائیلی افواج نے فضائی کارروائیاں بند نہیں کیں۔ اس وجہ سے خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور صورتحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔
لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق جبل ریحان، بصلایا اور جزین کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ السمعیہ میں مسجد کے قریب بھی حملے کی اطلاع ملی۔ یوں شہری علاقوں کو بھی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب، بنت جبیل کے علاقے برج قلاویہ میں شدید گولہ باری کی گئی۔ مزید یہ کہ سرحدی گاؤں خیام میں گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ اس کے نتیجے میں رہائشی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
مزید پڑھیں: ایران نے امریکا کے ساتھ نئی جنگ کا خدشہ ظاہر کردیا
اسی دوران، شوکین شہر میں فضائی حملے کے نتیجے میں تین افراد شہید ہوئے۔ ضلع نبطیہ میں بھی جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ دوسری طرف حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے القنطرہ میں اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا۔
آخر میں، جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملے تیز کردیے اور صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ رپورٹس کے مطابق دو ماہ میں 2659 افراد شہید ہوچکے ہیں۔ یوں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملے تیز کردیے اور امن کی امیدیں کمزور ہوگئیں۔