بھارتی کمپنی پر ایران کے ساتھ خفیہ تجارت کے ذریعے امریکی پابندیوں سے بچنے کا الزام

ایک بھارتی کمپنی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایرانی پیٹروکیمیکلز کی درآمد میں دھوکہ دہی پر مبنی تجارتی طریقے اختیار کیے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس مبینہ عمل نے عالمی تجارتی نگرانی اور ضوابط پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی نے سامان کی اصل کو چھپانے کے لیے اسے تیسرے ممالک کے ذریعے منتقل کیا۔ ماہرین کے مطابق کمپنی نے تقریباً 2.6 ملین میٹرک ٹن دانے دار یوریا ایران سے حاصل کیا، لیکن اس کی اصل کو مختلف ظاہر کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق مبینہ طور پر اس کھیپ کو عمان کے ذریعے گزارا گیا تاکہ اسے قانونی تجارت کا تاثر دیا جا سکے۔ ایک بحری جہاز “ایم وی انفنٹی” کو اس عمل میں استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جو عمان جا کر آگے روانہ ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اصل ذریعہ چھپانے کے لیے کیا گیا۔
ایرانی رہنما کا دعویٰ، خلیج فارس کا مستقبل امریکا کے بغیر روشن
اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آئے گا، کیونکہ ایران سے متعلق پیٹروکیمیکل تجارت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث کمپنیوں کو بھاری جرمانوں، تجارتی پابندیوں اور ساکھ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس لین دین سے متعلق دستاویزات آن لائن گردش کر رہی ہیں، جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان دستاویزات کی بنیاد پر یہ جانچ پڑتال کی جا رہی ہے کہ آیا سامان کی اصل کو دانستہ طور پر غلط ظاہر کیا گیا۔
تاہم، متعلقہ کمپنی کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ عالمی تجارتی نظام میں نگرانی کے چیلنجز کو بھی اجاگر کرتا ہے۔














