تیل مہنگا، مہنگائی کا دباؤ بڑھنے لگا

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے دنیا بھر میں مہنگائی کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں اور معیشتوں پر دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت میں اس تیزی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کا خوف ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق امریکا میں تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی میں 1 سے 2 فیصد پوائنٹس تک اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے بعد مجموعی مہنگائی تقریباً 5 فیصد کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ اسی طرح جرمنی میں ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور صنعتی شعبے کے منافع پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
بھارت میں بھی مہنگائی پر اثرات 0.5 سے 1.5 فیصد پوائنٹس تک متوقع ہیں، جبکہ پاکستان میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو مہنگائی میں 2 سے 4 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر خوراک کی قیمتیں زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
راولپنڈی میں سرکاری ملازمین کا احتجاج، تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کا مطالبہ
دوسری جانب عالمی حصص بازاروں میں مندی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں امریکا، یورپ اور ایشیا کی بڑی مارکیٹوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے خدشات اور غیر یقینی معاشی حالات کو ظاہر کرتی ہے۔
اگرچہ تیل کی قیمتیں بعد میں کچھ کم ہو کر 113 سے 116 ڈالر فی بیرل کے درمیان آگئیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جغرافیائی کشیدگی برقرار رہی تو معیشت پر دباؤ جاری رہے گا۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی معیشت اور مہنگائی پر فوری اور گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔















