یوم مزدور پر محنت کشوں کے حقوق پر سوال

یوم مزدور کی سالانہ تقریبات اس بات کی متقاضی ہیں کہ انہیں محض رسمی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی جائزے کا ذریعہ بنایا جائے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ملک میں مزدوروں کو ان کے بنیادی حقوق کس حد تک فراہم کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں آج بھی بڑی تعداد میں محنت کش غیر یقینی روزگار، کم اجرت اور غیر محفوظ کام کے ماحول کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ انہیں بنیادی سہولیات بھی حاصل نہیں۔
ملک کی اکثریت غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے، جہاں مزدوروں کو قانونی تحفظ نہ ہونے کے برابر ہے۔ صرف 2 سے 3 فیصد مزدور یونینز سے منسلک ہیں، جس کے باعث ان کی آواز مؤثر انداز میں نہیں سنی جاتی۔ اس صورتحال میں اکثر آجر اپنے منافع کو ترجیح دیتے ہوئے مزدوروں کی فلاح کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
تاریخی طور پر مزدور یونینز نے اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں، تاہم بعد کے ادوار میں ان کا اثر و رسوخ کم ہوتا گیا۔ آج کئی اداروں میں انسانی وسائل کے ذمہ داران بھی لیبر قوانین سے مکمل آگاہی نہیں رکھتے، جس کے باعث مزدوروں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ریاست، آجر اور مزدور تنظیموں کو مل کر حالات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ بعض مواقع پر یونینز کی سخت پالیسیوں سے مسائل پیدا ہوئے، لیکن ان کی عدم موجودگی میں مزدور مزید کمزور ہو گئے ہیں۔ کئی جگہوں پر کم از کم اجرت بھی ادا نہیں کی جاتی اور کنٹریکٹ پر ملازمت دے کر سہولیات سے محروم رکھا جاتا ہے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروائے اور غیر رجسٹرڈ مزدوروں کو نظام میں شامل کرے۔ بہتر اجرت، محفوظ ماحول اور بنیادی سہولیات کی فراہمی نہ صرف مزدوروں کا حق ہے بلکہ ملکی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
















