تہران اسلام آباد پروازیں 60 دن بعد بحال

ایران اور پاکستان کے درمیان فضائی سفر 60 دن کی معطلی کے بعد دوبارہ بحال ہو گیا ہے۔ یہ معطلی خطے میں کشیدگی اور مبینہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث کی گئی تھی۔
ایوی ایشن حکام کے مطابق جمعرات کے روز ایرانی ایئرلائن ماھان ایئر کا ایک طیارہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا جس نے پرواز W5-1185 کے تحت مسافروں کو تہران سے اسلام آباد پہنچایا۔ واپسی پر اسی طیارے نے پرواز W5-1184 کے ذریعے اسلام آباد سے تہران کے لیے اڑان بھری۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت 26 فروری 2026 کے بعد پہلی براہ راست پرواز ہے جب سکیورٹی اور علاقائی صورتحال کے باعث فضائی آپریشن معطل کر دیا گیا تھا۔ اب دونوں ممالک کے سول ایوی ایشن اداروں کے درمیان رابطے بحال ہونے کے بعد پروازوں کی بحالی ممکن ہوئی ہے۔
چینی سائنسدانوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو طیاروں کے ایندھن میں تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی تیار کرلی
ایئرپورٹ حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں مزید پروازیں بھی شیڈول میں شامل ہیں اور 7 مئی کو اگلی سروس متوقع ہے۔ اس بحالی سے ان مسافروں کو بڑی سہولت ملے گی جو کاروبار، تعلیم اور خاندانی وجوہات کی بنا پر دونوں ممالک کے درمیان سفر کرتے ہیں۔
پروازوں کی معطلی کے دوران مسافروں کو خلیجی ممالک کے ذریعے طویل اور مہنگے راستے اختیار کرنے پڑے، جس سے وقت اور اخراجات دونوں میں اضافہ ہوا۔ براہ راست فضائی رابطہ بحال ہونے سے یہ مشکلات کم ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت علاقائی فضائی روابط میں بہتری اور بتدریج استحکام کی علامت ہے، تاہم اس کا تسلسل خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال پر منحصر ہوگا۔
فی الحال تہران اسلام آباد پروازوں کی بحالی کو دونوں ممالک کے درمیان رابطوں، تجارت اور عوامی سطح پر تعلقات کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔














