12:52 , 3 مئی 2026
Watch Live

آئینی عدالت نے بلوچستان چیف سیکرٹریز کی تاحیات مراعات کالعدم قرار دے دیں

بلوچستان چیف سیکرٹریز

آئینی عدالت نے بلوچستان چیف سیکرٹریز کی تاحیات مراعات کالعدم قرار دیں اور صوبائی حکومت کی اپیل مسترد کردی۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ مراعات قانونی بنیاد کے بغیر دی گئیں۔ اس طرح یہ فیصلہ قانون کی بالادستی کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

جاری کردہ تحریری حکم نامے میں جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ قانون کے خلاف ہر حکومتی اقدام بلاجواز ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریٹائرڈ افسران یا ان کے اہلخانہ کو اضافی مراعات صرف قانون کے تحت ہی دی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا یہ نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار پایا۔

مزید برآں، عدالت نے کہا کہ پنشن اور دیگر مراعات صرف مقررہ قوانین کے مطابق دی جاسکتی ہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ اس حوالے سے قواعد بنانے کا اختیار صرف فنانس ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے۔ اس لیے کسی اور عہدیدار کو اضافی مراعات دینے کا اختیار حاصل نہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی ثالثی سے لاکھوں جانیں بچیں، وزیراعظم شہباز شریف

اس کے علاوہ، عدالت نے قرار دیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اضافی مراعات کی منظوری بھی خلافِ قانون ہے۔ عدالت کے مطابق آئین صرف انہی اقدامات کی اجازت دیتا ہے جو قانونی حدود کے اندر ہوں۔ یوں اختیارات سے تجاوز قابل قبول نہیں۔

یاد رہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ پہلے ہی ان مراعات کو غیر قانونی قرار دے چکی تھی۔ بعد ازاں صوبائی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ تاہم آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

آخر میں، آئینی عدالت نے بلوچستان چیف سیکرٹریز کی تاحیات مراعات کالعدم قرار دیں اور اس معاملے کو قانونی طور پر ختم کردیا۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ سرکاری وسائل صرف قانون کے مطابق استعمال ہوسکتے ہیں۔ اس طرح آئینی عدالت نے بلوچستان چیف سیکرٹریز کی تاحیات مراعات کالعدم قرار دیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION