07:18 , 14 مئی 2026
Watch Live

جنگ بندی ختم ہوتے ہی روس کے یوکرین پر بڑے ڈرون حملے

یوکرین

روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی ختم ہوتے ہی روس نے یوکرین پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے شروع کر دیے۔ یوکرینی حکام کے مطابق کم از کم 800 ڈرونز مختلف علاقوں پر داغے گئے۔ مزید برآں ان حملوں میں کم از کم 6 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔

یوکرین کے صدر Volodymyr Zelenskyy نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ روس نے صرف ایک دن میں سیکڑوں ڈرون حملے کیے۔ ان کے مطابق دارالحکومت کیف، مغربی شہر لیوو اور بحیرہ اسود کے قریب کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ نتیجتاً ملک کے مختلف حصوں میں فضائی خطرے کے سائرن مسلسل بجتے رہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ روس کا اصل مقصد یوکرین کے فضائی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھانا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈرون حملوں کے بعد کروز اور بیلسٹک میزائل حملوں کا بھی خدشہ موجود ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ یوکرینی فوج پوری طاقت کے ساتھ ملک کا دفاع کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق روس نے نیٹو ممالک کی سرحد کے قریب یوکرین کے مغربی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق زاکارپاتیا کے علاقے پر بھی حملے کیے گئے، جو Slovakia کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس صورتحال کے بعد سلوواکی حکومت نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایک زمینی سرحدی کراسنگ غیر معینہ مدت کیلئے بند کردی۔

دوسری جانب روسی حکام نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی ڈرونز نے روس میں تین صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تاہم ان حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ نتیجتاً دونوں ممالک ایک بار پھر شدید فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ حملے امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی تین روزہ جنگ بندی ختم ہونے کے فوراً بعد شروع ہوئے۔ جنگ بندی کے دوران دونوں ممالک نے متعدد خلاف ورزیوں کی اطلاعات دی تھیں، تاہم بڑے فضائی حملے رپورٹ نہیں ہوئے تھے۔ آخر میں کہا جا رہا ہے کہ جنگ بندی ختم ہوتے ہی روس کے یوکرین پر بڑے ڈرون حملے خطے میں جنگ کے خطرات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION