07:18 , 14 مئی 2026
Watch Live

اوباما کی ٹرمپ پر ایران پالیسی کے معاملے میں سخت تنقید

سابق صدر بارک اوباما

امریکا کے سابق صدر بارک اوباما نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران سے متعلق پالیسی کے معاملے میں کھل کر تنقید کی ہے۔ اوباما نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں ایران کا معاملہ ایک بھی میزائل فائر کیے بغیر کامیابی سے حل کیا تھا۔ مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ سفارتکاری کے ذریعے اہم اہداف حاصل کیے گئے۔

ایک انٹرویو میں بارک اوباما نے کہا کہ ان کی حکومت ایران سے 97 فیصد افزودہ یورینیم نکلوانے میں کامیاب رہی تھی۔ ان کے مطابق یہ عمل مذاکرات اور عالمی معاہدوں کے ذریعے پرامن انداز میں مکمل ہوا۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کیلئے کسی بڑے فوجی آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

اوباما نے کہا کہ ان کی حکمت عملی کے باعث نہ بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے اور نہ ہی آبنائے ہرمز جیسی اہم گزرگاہ بند ہوئی۔ انہوں نے زور دیا کہ سفارتی راستہ ہمیشہ جنگ سے بہتر نتائج دیتا ہے۔ نتیجتاً انہوں نے ٹرمپ کی ایران پالیسی کو غیر مؤثر قرار دیا۔

سابق امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کی شروع کردہ ایران جنگ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ان کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اوباما پر سخت تنقید کی تھی۔ اس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اوباما ایران کے معاملے میں نرم رویہ رکھتے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اوباما دور میں ایران کو سیکڑوں ارب ڈالر اور 1.7 ارب ڈالر نقد رقم فراہم کی گئی۔ مزید یہ کہ ٹرمپ نے اوباما کو کمزور اور ناتجربہ کار صدر قرار دیا تھا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں رہنماؤں کے بیانات نے امریکا میں ایران پالیسی پر جاری سیاسی اختلافات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی حکمت عملی اب بھی اندرونی سیاسی تنازع کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ آخر میں کہا جا رہا ہے کہ اوباما کی ٹرمپ پر ایران پالیسی کے معاملے میں سخت تنقید امریکی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION