04:15 , 30 اپریل 2026
Watch Live

پاکستانی سرکاری اداروں میں 600 سے زائد اصلاحات کامیاب

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 2025 کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس (CPI) جاری کیے ہیں، جس میں پاکستان ایک درجہ بہتری کے ساتھ 136ویں نمبر پر آیا۔ پاکستان کا مجموعی اسکور 28 تک پہنچا، جو حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات میں جاری پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ رینکنگ عوامی اور انتظامی شعبوں میں بدعنوانی کم کرنے کی کوششوں کو اجاگر کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے انتظامی، عدالتی اور قانون ساز شفافیت کے اہم شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اہم اشاریوں، جیسے کہ بیوروکریسی اور عدلیہ کی شفافیت میں 2024 کے مقابلے پانچ پوائنٹس تک بہتری دیکھی گئی۔ رپورٹ میں شامل ممالک کی تعداد 182 ہو گئی ہے، جو پچھلے سال 180 تھی۔

2021 سے 2025 کے درمیان پاکستان میں بدعنوانی کے تاثر میں مسلسل کمی ہوئی ہے۔ پچھلے چار سالوں میں جامع اینٹی کرپشن اقدامات نے پاکستان کی CPI رینکنگ میں چار درجے کی بہتری لائی اور اداروں پر عوامی اعتماد مضبوط کیا۔

دسمبر 2025 میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی رپورٹ کے مطابق دو تہائی شہریوں نے کبھی سرکاری دفاتر میں بدعنوانی کا سامنا نہیں کیا۔ اسی طرح، ایف پی سی سی آئی کے تعاون سے شائع شدہ IPSOS سروے میں 67% پاکستانیوں نے کبھی بدعنوانی نہیں دیکھی اور 76% نے اقربا پروری کا سامنا نہیں کیا۔

گزشتہ سال 135 سرکاری اداروں نے 600 سے زائد کامیاب اصلاحات نافذ کیں، جیسا کہ پاکستان ریفارمز رپورٹ میں بتایا گیا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے بدعنوانی کے تاثر کو کم کرنا ضروری ہے، اور پاکستان کی مسلسل بہتری پچھلے چار سالوں میں ان اصلاحات کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION