ویب ڈیسک
|
1 سال پہلے
کانگو میں جنوری سے اب تک سات ہزار سے زائد افراد ہلاک

جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں جاری جھڑپوں کے نتیجے میں جنوری سے اب تک 7 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔
جمہوریہ کانگو کی وزیر اعظم نے پیر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اس سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی کانگو کی سکیورٹی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے، اور گزشتہ ماہ سے اب تک 7 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سے 2,500 سے زیادہ افراد کو بغیر شناخت دفن کر دیا گیا، جبکہ 1500 لاشیں اب بھی مردہ خانوں میں موجود ہیں۔
مشرقی کانگو میں روانڈا کے حمایت یافتہ باغی گروپ M23 نے بڑی پیش قدمی کی ہے اور گوما اور بوکاوو جیسے اہم شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق روانڈا کے تقریباً 4 ہزار فوجی اس گروپ کی مدد کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ گوما میں 3,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ باغیوں کی تیز کارروائیوں کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں اور انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔











