مشرق وسطیٰ جنگ سے پاکستان کی دو سالہ معاشی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا۔ انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے معاشی اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بڑھتی کشیدگی نے معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فی الحال سیز فائر برقرار ہے۔
مزید برآں، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اہم سفارتی رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے مختلف ممالک کے دورے کیے اور مشاورت کے بعد جواب دیں گے۔
مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ نے ویکسین پالیسی منظور، خود انحصاری کی جانب اہم قدم
تاہم، وزیراعظم نے خبردار کیا کہ جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ہفتہ وار درآمدی بل 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے معاشی استحکام کو متاثر کیا ہے۔
اس کے باوجود، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ساڑھے تین ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کیے ہیں۔ انہوں نے سعودی قیادت کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ آخر میں، انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ جنگ سے پاکستان کی دو سالہ معاشی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔