یورو ویژن 2026 میں اسرائیل کی شرکت پر عالمی اعتراضات

یوروپی براڈکاسٹنگ یونین نے اعلان کیا ہے کہ یورو ویژن 2026 میں اسرائیل کی شرکت کی اجازت دے دی گئی ہے، جس کے بعد مقابلے کے حوالے سے نئے سوالات اور بحث نے جنم لیا ہے۔ یہ فیصلہ آنے والے موسیقی مقابلے کے انتظامات اور بین الاقوامی حالات کو دیکھتے ہوئے اہم سمجھا جا رہا ہے
یونین کے مطابق اس سال کسی قسم کی ووٹنگ اسرائیل کی شرکت کے حوالے سے نہیں کرائی جائے گی۔ انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ مقابلے کو کسی سیاسی اثرانداز ہونے سے بچانے کے لیے کچھ نئے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں، تاکہ ایونٹ کا مقصد صرف موسیقی اور ثقافتی تبادلے تک محدود رہے۔
دوسری جانب اسپین، نیدرلینڈز، آئرلینڈ اور سلووینیا نے شدید اختلاف ظاہر کیا ہے۔ ان ممالک نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف احتجاجاً مقابلے میں حصہ نہیں لیں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ فلسطین میں جاری صورتِ حال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: غزہ اور لبنان میں اسرائیلی حملے، سات افراد شہید
ان ممالک کے مطابق اسرائیل پر جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں، اس لیے ایسے ملک کو بڑے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر جگہ دینا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا احتجاج اصولی موقف کی بنیاد پر ہے۔
واضح رہے کہ یورو ویژن 2026 میں اسرائیل کی شرکت کے ساتھ یہ موسیقی کا عالمی مقابلہ اگلے سال مئی میں آسٹریا کے شہر ویانا میں منعقد ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کئی ممالک کی اس احتجاجی دستبرداری کے باوجود ایونٹ کس طرح منعقد ہوتا ہے۔














