12:25 , 23 جون 2026
Watch Live

حکومت نے موٹرسائیکل سواروں، ٹرانسپورٹرز اور کسانوں کے لیے فیول سبسڈی ختم کردی

فیول سبسڈی

حکومت نے موٹرسائیکل سواروں، رکشا ڈرائیوروں، عوامی و مال بردار ٹرانسپورٹ اور چھوٹے کسانوں کو دی جانے والی فیول سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ فیول سبسڈی کا خاتمہ ملک بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کر سکتا ہے جو اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔

اجلاس میں موٹرسائیکل سواروں، چھوٹے کاشتکاروں اور ٹرانسپورٹ شعبے کو دی جانے والی سبسڈی کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ موجودہ حالات میں اس پروگرام کو مزید جاری رکھنے کی ضرورت نہیں رہی، لہٰذا تمام متعلقہ شعبوں کے لیے سبسڈی ختم کر دی جائے۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق یہ سبسڈی چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فراہم کی جا رہی تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد ایندھن کی بلند قیمتوں کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنا تھا۔

مزید پڑھیں: امجد حسین ایڈووکیٹ بلامقابلہ گلگت بلتستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب

اعلامیے میں کہا گیا کہ عالمی سطح پر تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ چکی ہے اور اس کمی کا فائدہ پہلے ہی صارفین تک منتقل کیا جا چکا ہے۔ اسی بنیاد پر وزیراعظم کی منظوری سے سبسڈی پروگرام ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اس اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشا اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو 50 سے 100 روپے فی لیٹر تک سبسڈی مل رہی تھی۔ عوامی اور مال بردار ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو 70 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ معاونت دی جاتی تھی، جبکہ چھوٹے کسانوں کو ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی فراہم کی جاتی تھی۔ ماہرین کے مطابق فیول سبسڈی کا خاتمہ ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION