ایران کا آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف، محسن رضائی کا بیان

تہران : سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ جب تک ایران کے مکمل حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا مؤقف برقرار رہے گا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا مسلسل جنگ سے خوفزدہ ہے، جبکہ ایران طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے دفاعی نظام اور بحری صلاحیتیں کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، اور امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
محسن رضائی نے کہا کہ جب ایران کی بحری قوت کو کمزور قرار دیا جاتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے کی جرات کیوں نہیں کرتا۔
بچوں کی شہادتیں! کیا عالمی رہنماؤں میں انسانی ضمیر مر گیا؟ ایرانی صدر
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ان کے بیان کے بعد خطے میں کشیدگی اور عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات ایک بار پھر زیر بحث آ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل ترسیلی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جس پر کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر اثر ڈال سکتی ہے۔










