07:33 , 24 جون 2026
Watch Live

ایران کا آئی اے ای اے کو حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کا معائنہ کرانے سے انکار

ترجمان اسماعیل بقائی

ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو حالیہ حملوں سے متاثرہ اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی نگرانی کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ ایران کے جوہری پلانٹس کا معائنہ ایک بار پھر بین الاقوامی سفارتی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران فردو، نطنز اور اصفہان کی ان جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا جو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثر ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔

اسماعیل بقائی نے ان خبروں کی بھی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام اور آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔ ترجمان کے مطابق ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیں: ایران جنگ میں تباہ ہونے والے امریکی پائلٹ کا ایرانی ڈرونز سے متعلق حیران کن انکشاف

منجمد اثاثوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو بحال ہونے والے فنڈز کے استعمال پر کسی قسم کی پابندی کا سامنا نہیں ہے اور وہ اپنے اثاثوں کے استعمال میں مکمل اختیار رکھتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران معائنے پر آمادہ نہ ہوتا تو مذاکرات کا سلسلہ آگے نہ بڑھتا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ دوبارہ ناکہ بندی کے لیے تیار ہے، تاہم فی الحال ایسی ضرورت نظر نہیں آتی۔ ایران کے جوہری پلانٹس کا معائنہ کے معاملے پر تہران اور واشنگٹن کے بیانات میں واضح اختلاف سامنے آ رہا ہے، جس سے اس حساس معاملے پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION