مذاکرات میں ایران کا یورینیم افزودگی پر سخت مؤقف

ایران نے عمان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکا کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں ایران سے یورینیم افزودگی روکنے کا کہا گیا تھا۔ یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں ایک اہم موڑ سمجھی جا رہی ہے، جس پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
علاقائی سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ افزودگی کی سطح اور اس کی خالصیت جیسے امور پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم مکمل طور پر افزودگی روکنے کا مطالبہ اس کے لیے قابل قبول نہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران امریکی فریق نے ایران کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کی اور بعض نکات پر لچک کا مظاہرہ بھی کیا۔ تہران کا خیال ہے کہ بات چیت کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے اور مستقبل میں پیش رفت ممکن ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی فضائی حملے: غزہ میں 24 فلسطینی جاں بحق، خواتین اور بچے بھی متاثر
ذرائع نے مزید بتایا کہ مسقط میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کی میزائل صلاحیتوں پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ یہ بات چیت صرف جوہری امور تک محدود رہی، جسے ایران نے ایک مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مسقط میں ہونے والا حالیہ مذاکراتی دور مکمل ہو چکا ہے، اور دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم ایران نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ یورینیم افزودگی اس کے لیے ایک بنیادی حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔














