جوڈیشل کمیشن اجلاس: اسلام آباد ہائیکورٹ ججز تبادلے پر آئینی بحث شدت اختیار کر گئی

جوڈیشل کمیشن پاکستان اجلاس جو 28 اپریل کو منعقد ہونا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کے تبادلوں کے معاملے پر ایک اہم آئینی بحث کا سبب بن گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض ارکان کی تحفظات کے باوجود اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس پر عدلیہ کے اندر شدید اختلاف سامنے آیا ہے۔
ایک مؤقف کے مطابق ججوں کے تبادلے عدالتی آزادی کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتے ہیں، کیونکہ اس سے ججوں کو انتظامی طور پر قابلِ تبدیل سمجھا جا سکتا ہے۔
اس رائے کے مطابق یہ عمل عدلیہ کی خودمختاری اور عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 200 کے اصولوں سے متصادم ہے۔
دوسری جانب کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ آئینی شقیں انتظامی ضرورت کے تحت ججوں کے تبادلے کی اجازت دیتی ہیں۔
ان کے مطابق جوڈیشل کمیشن کو عدالتی نظام کی ضروریات کے مطابق فیصلوں پر نظرثانی کا اختیار حاصل ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں صوبائی نمائندگی کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے، تاہم بعض ذرائع کے مطابق یہ آئینی طور پر لازمی شرط نہیں۔
یہ اجلاس عدالتی نظام اور آئینی تشریح پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔












