01:10 , 25 اپریل 2026
Watch Live

ججز تبادلہ معاملہ: یحییٰ آفریدی نے اجلاس کی درخواست مسترد کردی

یحییٰ آفریدی

ججز تبادلہ معاملہ میں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کمیشن اجلاس بلانے کی غیر رسمی درخواست مسترد کردی۔ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو تحریری جواب دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں اجلاس بلانا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے اپنے جواب میں کہا کہ بغیر واضح وجہ ججوں کا تبادلہ کرنا سزا کے مترادف ہوگا۔ اس لیے مخصوص مقصد کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانا مناسب نہیں۔ مزید یہ کہ ایسے فیصلوں میں قانونی اور ادارہ جاتی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

مزید برآں انہوں نے کہا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ججوں کی واپسی وفاقی توازن کو متاثر کرے گی۔ اس سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں صوبوں کی نمائندگی کم ہوسکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نو میں سے پانچ ججوں کا تبادلہ عدالتی نظام کو متاثر کرسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پہلی بار خواجہ سرا جیل وارڈنز کی تقرری

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متعدد آسامیوں کے خالی ہونے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی۔ مزید یہ کہ تبادلوں کے لیے کوئی واضح ادارہ جاتی ضرورت یا وجہ بیان نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت جج کے خلاف کارروائی کا واضح طریقہ موجود ہے۔

آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ ججوں کے انتظامی تبادلے آئینی اصولوں کے خلاف ہوں گے اور عدلیہ کی آزادی متاثر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کو قابل تبادلہ افسر سمجھنا خطرناک رجحان ہے۔ یوں ججز تبادلہ معاملہ پر اجلاس کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION