01:07 , 14 مئی 2026
Watch Live

پاکستان میں موسمیاتی مالیاتی اصلاحات پر زور

پاکستان میں کلائمٹ فنانس اصلاحات
پاکستان میں کلائمٹ فنانس اصلاحاتپاکستان میں کلائمٹ فنانس اصلاحات

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر پالیسی سوچ میں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں اب صرف عالمی امداد پر انحصار کرنے کے بجائے داخلی اصلاحات اور معاشی استحکام پر زور دیا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو بریتھ پاکستان کلائمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ موسمیاتی آفات کے بعد عالمی برادری سے فوری اور بڑے پیمانے پر امداد کی توقع اب حقیقت پسندانہ نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی مدد حاصل کرنے سے پہلے اپنے اندر سنجیدگی، مؤثر حکمرانی اور پالیسی استحکام کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد اربوں ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اس کا صرف ایک محدود حصہ ہی عملی طور پر پاکستان کو مل سکا۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بدلتی ترجیحات، جنگی حالات، توانائی بحران اور اندرونی معاشی دباؤ کے باعث امدادی پالیسیوں میں تبدیلی آ چکی ہے۔

ایران نے امریکا سے جنگی نقصان کا معاوضہ مانگ لیا

وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی موسمیاتی فنڈز، گرین بانڈز، پائیدار مالیاتی منصوبے اور نجی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، مگر پاکستان کو ان وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے معاشی نظم و ضبط، پالیسی تسلسل اور قابلِ عمل منصوبے پیش کرنا ہوں گے۔

انہوں نے موسمیاتی چیلنج سے نمٹنے کے لیے “ہول آف گورنمنٹ اپروچ” کی ضرورت پر بھی زور دیا، کیونکہ یہ مسئلہ زراعت، پانی، توانائی، صحت، انفراسٹرکچر اور معیشت سمیت تمام شعبوں سے جڑا ہوا ہے۔

کانفرنس میں موسمیاتی منصوبوں کے لیے خصوصی کلائمٹ بینک کے قیام کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا ادارہ گرین فنانسنگ، صاف توانائی، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں کے لیے طویل المدتی سرمایہ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION