03:16 , 24 جون 2026
Watch Live

ٹرمپ کی دوسری مدت میں پاکستان کی واشنگٹن میں سفارتی پوزیشن مضبوط، امریکی جریدے کی رپورٹ

پاکستان نے ٹرمپ دور میں امریکا کے ساتھ تعلقات کیسے بہتر بنائے؟

امریکی جریدے فارِن پالیسی نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران پاکستان نے واشنگٹن میں اپنی سفارتی پوزیشن کو غیر معمولی حد تک مستحکم کیا۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد نے مربوط حکمتِ عملی کے تحت وہ سیاسی رسائی حاصل کی، جو اس سے قبل کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے منظم سفارتی کوششیں کیں، جن کے نتیجے میں وائٹ ہاؤس میں اسلام آباد کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر بڑھا۔ اس دوران پاکستان اور امریکا کے درمیان مختلف شعبوں میں تیزی سے تعاون بڑھا۔

فارِن پالیسی کے مطابق صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ قریبی ذاتی روابط قائم کیے۔ دونوں شخصیات کو متعدد مرتبہ وائٹ ہاؤس مدعو کیا گیا، جسے امریکی تجزیہ کار غیر معمولی سطح کی رسائی قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم شہباز شریف واشنگٹن پہنچے، صدر ٹرمپ سے ملاقات

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ 2021 میں کابل دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری میں پاکستان کے اہم کردار نے واشنگٹن کا اعتماد حاصل کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس تعاون نے پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنایا اور ٹرمپ انتظامیہ کے اندر پاکستان کے بارے میں تصور مثبت ہوا۔

فارِن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد نے ٹرمپ سے منسلک مختلف لابنگ نیٹ ورکس میں سرمایہ کاری کی، جس کی بدولت کانگریس اور امریکی پالیسی ساز حلقوں میں پاکستان کے بیانیے کو تقویت ملی۔ کرپٹو کرنسی، جدید معدنیات اور اسٹریٹیجک صنعتوں کے حوالے سے بھی امریکا کے ساتھ رابطے مضبوط کیے گئے۔

کریٹیکل منرلز کے شعبے میں سب سے نمایاں پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) اور یو ایس اسٹریٹجک میٹلز کے درمیان 500 ملین ڈالر کا اہم معاہدہ ہوا۔ اسی دوران ریکو ڈِک منصوبے میں بھی نئی سرگرمیوں نے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول کرائی۔

یہ بھی پڑھیں : شہباز شریف اور ٹرمپ کی نیویارک میں خوشگوار گفتگو

رپورٹ کے مطابق ریکو ڈِک کی بحالی نے بین الاقوامی منڈیوں کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان مغربی سرمایہ کاری کے لیے قابلِ اعتماد اور محفوظ ملک بنتا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت نے پاکستان کی معاشی ساکھ کو بھی مضبوط کیا۔

اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے کرپٹو فریم ورک کو جدید اور شفاف بنایا، جس کے نتیجے میں امریکی اداروں—خصوصاً پاکستان کرپٹو کونسل اور ورلڈ لیبرٹی فائنانشل—کے ساتھ تعاون میں اضافہ ہوا۔ توانائی، انسدادِ دہشت گردی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں بھی تعاون کا دائرہ وسیع ہوا۔

فارِن پالیسی کا کہنا ہے کہ اس دور میں امریکا اور بھارت کے تعلقات سرد مہری کا شکار رہے۔ ٹیرف تنازعات، روس سے سستا تیل خریدنا اور پاک بھارت کشیدگی کے دوران اختلافات اس سرد مہری کی بنیادی وجوہات قرار دی گئیں۔ اس کے برعکس واشنگٹن کا رویہ پاکستان کے لیے نسبتاً نرم رہا۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کو سنبھالنا صرف وزیراعظم شہباز شریف کو آتا ہے: برطانوی اخبار

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے امریکا کو باور کرایا کہ دوطرفہ تعلقات کو چین، بھارت یا افغانستان کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے اپنی اصل اہمیت اور تزویراتی کردار کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے خطے کے استحکام اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کو اہم پارٹنر سمجھا۔

تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ کریٹیکل منرلز سپلائی چین، خطے کے امن اور توانائی توازن میں پاکستان کا کردار مستقبل میں مزید اہم ہو سکتا ہے۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر امریکی فوجی یا مالی امداد کے امکانات محدود ہیں، تاہم سفارتی سطح پر اسلام آباد کی قدر میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔

فارِن پالیسی نے اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان نے مؤثر قیادت، طویل المدتی وژن اور مربوط سفارتی حکمتِ عملی کے ذریعے واشنگٹن میں اپنی پوزیشن کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات کے نئے امکانات کھل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کے دور اقتدار میں پاکستان کا عالمی اثرورسوخ عروج پر

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION