03:51 , 24 جون 2026
Watch Live

پی ٹی آئی کی ہری پور میں غیر متوقع شکست نے پارٹی قیادت کو سوچنے پر مجبور کر دیا

پی ٹی آئی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ہری پور کے ضمنی انتخاب میں ہونے والی مبینہ طور پر "مینجڈ” مگر غیر متوقع شکست نے پارٹی قیادت کو شدید مایوسی اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ وہ حلقہ ہے جہاں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی اپنی صوبائی حکومت موجود ہے، اس لیے نتیجہ پارٹی کے لیے غیر معمولی جھٹکا سمجھا جا رہا ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق سینئر قیادت اس امر پر غور کر رہی ہے کہ محاذ آرائی کی طویل سیاسی حکمت عملی کہیں پارٹی کو اپنے مضبوط گڑھ خیبر پختونخوا میں بھی کمزور تو نہیں کر رہی۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کئی ماہ سے سیاسی میدان واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر ہری پور کے نتائج نے اس بیانیے کو چیلنج کر دیا ہے۔

عمر ایوب خان کی نااہلی کے باعث خالی ہونے والی نشست پر ان کی اہلیہ امیدوار تھیں، لیکن شکست نے یہ احساس پیدا کیا ہے کہ پارٹی کو موجودہ حالات میں اپنی حکمت عملی پر ازسرِ نو غور کرنا ہوگا۔

باخبر حلقوں کے مطابق نتائج سامنے آتے ہی پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے عمر ایوب سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی بات چیت کی۔ بیرسٹر گوہر نے گزشتہ تین برسوں کی سیاسی پالیسی کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لینے کی تصدیق بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں : پی ایم ایل این نے 13 ضمنی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرلی

پارٹی کے اندر یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ مقتدر حلقوں کی جانب سے پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو مکمل قبولیت نہ ملنے کے سبب محاذ آرائی کی سیاست مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لیے معتدل رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ آئندہ کا راستہ مذاکرات پر مبنی سیاست ہونا چاہیے۔

تاہم حتمی فیصلہ پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان ہی کریں گے، جو ماضی میں زیادہ تر جارحانہ مؤقف رکھنے والے حلقے کی آراء کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION