رولیکس کی 85 سال پرانی نایاب گھڑی 47 لاکھ 17 ہزار ڈالر میں فروخت

عالمی شہرت یافتہ سوئس گھڑی ساز کمپنی رولیکس کی 85 سال قبل تیار کردہ نایاب گھڑی ریکارڈ 47 لاکھ 17 ہزار امریکی ڈالر میں نیلام کر دی گئی۔ خلیجی میڈیا کے مطابق دبئی میں سنگاپور کی معروف کمپنی فیوچر گرائل کی جانب سے یہ نیلامی منعقد کی گئی، جس میں تاریخی گھڑی نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
رولیکس نے 1940 کی دہائی میں رولیکس 4113 ماڈل کی محض 12 گھڑیاں تیار کی تھیں، جن میں سے آج دنیا میں صرف 9 گھڑیاں باقی رہ گئی ہیں۔ انہی میں سے ایک گھڑی دبئی کی نیلامی میں ریکارڈ قیمت پر فروخت ہوئی، جو پاکستانی روپے میں تقریباً ایک ارب 34 کروڑ بنتی ہے۔
یہ گھڑی رولیکس کی واحد اسپیلیٹ سیکنڈز کرونوگراف گھڑی ہے۔ اسی ماڈل کی ایک گھڑی اس سے قبل 12 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی، تاہم اس بار قیمت دوگنی سے بھی زیادہ رہی، جس نے عالمی سطح پر نیلامی کے ریکارڈ بدل دیے۔
نیلامی کمیٹی نے خریدار کی شناخت ظاہر نہیں کی، البتہ یہ بتایا گیا کہ کمپنی خریدار اور فروخت کنندہ دونوں سے 6 فیصد کمیشن وصول کرتی ہے۔
فیوچر گرائل نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 میں متحدہ عرب امارات میں اپنے نیلامی آپریشنز کو مزید توسیع دے گی، کیونکہ امارات میں نایاب اور قیمتی اشیاء کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے اور ریکارڈ قیمتوں پر سودے ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پرتگال کے ساحل پر نایاب "رول کلاؤڈز” کا دلکش منظر
پرتگال کے ساحلی علاقے میں انتہائی نایاب بادلوں کی لہر (رول کلاؤڈز) نے سیاحوں کو حیران کر دیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
یہ غیر معمولی منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب بادلوں کی ایک سرکتی ہوئی لہر سمندر کے اوپر ظاہر ہوئی، جو کسی فلمی سین جیسا منظر پیش کر رہی تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی مناظر موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہیں، جو دنیا بھر میں شدت اختیار کر رہی ہے۔
فرانس میں شدید گرمی کے باعث ایفل ٹاور کا بلند ترین حصہ عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اسپین میں درجہ حرارت 46 سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ اٹلی میں بھی گرمی 40 سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گئی۔ برطانیہ، پرتگال اور کروشیا میں بھی شدید گرمی سے عوام پریشان ہیں۔












