اسلام آباد میں بیمار گدھوں کا گوشت 400روپے فی کلو میں فروخت کا انکشاف

اسلام آباد— وفاقی دارالحکومت میں گدھے کا گوشت فروخت کیے جانے کے سنسنی خیز انکشاف پر ضلعی انتظامیہ نے تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، غیرقانونی گوشت فروخت کرنے کے معاملے کی چھان بین کے لیے تین رکنی کمیٹی کام کر رہی ہے، جس کی ابتدائی رپورٹ میں کئی اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ اس مکروہ دھندے میں استعمال کیے جانے والے گدھے نہ صرف بیمار تھے بلکہ کسی بھی قسم کے کام کے قابل بھی نہیں تھے۔ ان گدھوں کو سستے داموں، 30 سے 40 ہزار روپے میں خریدا گیا، حالانکہ پاکستان میں صحت مند گدھے کی قیمت عام طور پر 60 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔
ابتدائی تفتیش سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گدھے کے گوشت پر اخراجات فروخت کنندگان کو تقریباً 400 روپے فی کلو کے حساب سے آ رہے تھے، جبکہ یہی گوشت اگر مارکیٹ میں فروخت ہوتا تو اس کی قیمت 900 سے 1,200 روپے فی کلو تک وصول کی جاتی۔
زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ کمیٹی کو حاصل معلومات کے مطابق، یہ گوشت مبینہ طور پر راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں موجود چائنیز افراد اور ممکنہ طور پر کچھ ریسٹورنٹس کو بھی سپلائی کیا جا رہا تھا۔
ضلعی انتظامیہ نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس غیر قانونی کاروبار میں کون کون سے افراد یا گروہ ملوث ہیں، اور آیا کسی ہوٹل یا فوڈ چین نے دانستہ یا نادانستہ طور پر یہ گوشت خریدا۔
حکام کا کہنا ہے کہ انسانی صحت سے کھیلنے والے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔















