07:19 , 23 اپریل 2026
Watch Live

امریکی وزیر بحریہ جان سی فیلن اچانک مستعفی، وجوہات سامنے نہ آسکیں

جان سی فیلن

امریکا کے وزیر بحریہ جان سی فیلن اچانک مستعفی ہوگئے ہیں اور وجوہات سامنے نہ آسکیں۔ اس غیر متوقع فیصلے نے واشنگٹن میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکام نے تاحال کوئی واضح وجہ نہیں بتائی۔ چنانچہ اس معاملے پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر 2024 میں فیلن کو اس عہدے کیلئے نامزد کیا تھا۔ اس وقت ان پر تنقید کی گئی کہ انہیں دفاعی یا عسکری امور کا تجربہ نہیں۔ تاہم وہ فروری 2025 میں سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ بعد ازاں مارچ میں انہیں واضح اکثریت سے توثیق مل گئی۔

مزید برآں، ان کے مستعفی ہونے کے بعد انڈر سیکرٹری ہنگ کاؤ قائم مقام وزیر بحریہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ وہ عارضی طور پر انتظامی اور پالیسی امور دیکھیں گے۔ اس دوران بحریہ کے معمول کے معاملات جاری رہیں گے۔ تاہم قیادت کی تبدیلی سے فیصلوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا دعویٰ: ایران نے 8 خواتین کی سزائے موت روک دی

دوسری جانب، بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ فیلن کو عہدے سے ہٹایا بھی جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایران سے متعلق کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل جنرل رینڈی جارج کو بھی ہٹایا گیا تھا۔ یوں دفاعی قیادت میں بڑی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔

آخر میں، جان سی فیلن کا اچانک مستعفی ہونا امریکی دفاعی نظام میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ اگرچہ وجوہات ابھی واضح نہیں ہوئیں، لیکن وقت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ یوں امریکی وزیر بحریہ جان سی فیلن اچانک مستعفی ہونے کا معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION