پاکستان نے بیجنگ میں پانڈا بانڈ روڈ شو کا آغاز کر دیا

چینی سرمایہ کاروں کے لیے نان ڈیل روڈ شو، معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع اجاگر
پاکستان نے 7 جولائی سے 11 جولائی 2025 تک بیجنگ، چین میں اپنے متوقع پانڈا بانڈ کے اجرا سے قبل ایک نان ڈیل روڈ شو کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد چینی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو ملکی اقتصادی امکانات سے آگاہ کرنا ہے۔
معاشی مشیر خرم شہزاد کے مطابق، روڈ شو میں پاکستان کی مجموعی اقتصادی صورتحال، قرضوں کی تنظیم نو، اور پانڈا بانڈ کے ڈھانچے پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔
یہ روڈ شو وزارتِ خزانہ کی قیادت میں ہو رہا ہے، جو اس سال کے آخر میں باقاعدہ اجرا سے قبل مختلف چینی اداروں کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے۔ حکام انڈر رائٹرز، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، قانونی مشیروں اور ممکنہ گارنٹرز کے ساتھ تکنیکی ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق، پانڈا بانڈ کی مالیت 200 سے 300 ملین امریکی ڈالر کے مساوی چینی یوان میں ہوگی، جسے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) جیسے ترقیاتی اداروں کی حمایت حاصل ہوگی، جو ممکنہ طور پر کریڈٹ گارنٹی بھی فراہم کریں گے۔
پانڈا بانڈ کا اجرا پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ڈالر پر انحصار کم کر کے فنڈنگ کے ذرائع کو متنوع بنانا اور چین کے مالیاتی نظام سے مزید جڑاؤ پیدا کرنا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے کریڈٹ ریٹنگ کو سنگل ‘بی’ درجہ تک لے جانے کی کوششوں کا بھی حصہ ہے۔
وزیر خزانہ نے زور دیا ہے کہ چینی نجی شعبے اور برآمدی صنعتیں پاکستان میں پیداواری یونٹ منتقل کریں تاکہ پاکستان کو علاقائی برآمدی مرکز بنایا جا سکے۔
یہ کوششیں سی پیک کے دوسرے مرحلے سے ہم آہنگ ہیں، جو خصوصی اقتصادی زونز، زراعت، اور آئی ٹی شعبے پر مرکوز ہے۔ حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں اور غیر ملکی کمپنیوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات بھی جاری ہیں۔











