ویب ڈیسک
|
1 سال پہلے
نوجوانوں کے قبل از وقت بڑھاپے کی اصل وجہ سامنے آگئی

موجودہ دور میں قبل از وقت بڑھاپے کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں حیران کن اضافہ ہو رہا ہے، اور اب اس کی ایک اہم وجہ دریافت کی گئی ہے۔
امریکا کی براؤن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ہماری غذائی عادات قبل از وقت بڑھاپے کا سبب بن رہی ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ نوجوانی یا لڑکپن میں اختیار کی جانے والی غذائی عادات ہماری حیاتیاتی عمر پر اثر ڈالتی ہیں۔ یہ عمر کرانیکل ایج (تاریخی عمر) سے مختلف ہوتی ہے، کیونکہ حیاتیاتی عمر جسمانی اور ذہنی افعال کے مطابق ہوتی ہے، جس پر جینز، طرز زندگی اور دیگر عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق، اگر نوجوانی میں زیادہ کھانا کھانے کی عادت ہو تو جسمانی وزن بڑھتا ہے، جس سے قبل از وقت بڑھاپے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ رات دیر سے کھانے کی عادت سے جسم کی اندرونی گھڑی کے افعال پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس سے موٹاپے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ نوجوانی میں جسم کی نشوونما عمر بھر کے لیے اثرات مرتب کرتی ہے، اور اس دوران نیند اور کھانے کے اوقات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اس تحقیق میں 12 سے 18 سال کی عمر کے 51 افراد کو شامل کیا گیا، جنہیں جسمانی وزن کی بنیاد پر تین گروپس میں تقسیم کیا گیا۔
ان تمام افراد پر نیند اور غذائی عادات سے متعلق مختلف تجربات کیے گئے، جن سے یہ بات سامنے آئی کہ ان عادات میں تبدیلی سے جسم کی اندرونی گھڑی کے افعال میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ یہ پہلی بار ثابت ہوا ہے کہ غذائی عادات جسم کی اندرونی گھڑی کے افعال کو بھی متاثر کرتی ہیں، جس سے حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم، اس تحقیق کے نتائج کی مکمل تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔











