خیبر کے علاقے باڑہ بازار میں عوامی نیشل پارٹی (اے این پی) کے جلسے کے دوران ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں متعدد کارکن زخمی ہو گئے۔ پولیس نے ہوائی فائرنگ کر کے ہجوم کو منتشر کیا اور صورتحال پر قابو پایا۔ اس واقعے نے علاقے میں بڑھتی سیاسی کشیدگی کو ظاہر کیا ہے، اور اے این پی کے جلسے میں ہنگامہ آرائی اب سیاسی اور عوامی حلقوں میں اہم موضوع بن گئی ہے۔
پولیس کے مطابق جلسہ اے این پی کے ضلعی صدر کی زیرصدارت منعقد ہوا تھا۔ صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب کچھ مخالفین وہاں پہنچے اور نعرے لگانے لگے، جس کے بعد دونوں جانب سے ہاتھاپائی اور تشدد شروع ہو گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچی۔ پولیس اور مسلح افراد نے ہوائی فائرنگ جاری رکھی تاکہ ہجوم کو قابو میں کیا جا سکے۔ اس کارروائی کے بعد حالات پر کنٹرول حاصل کیا گیا اور مزید نقصان سے بچا گیا۔
مزید پڑھیں: اویس لغاری کا نیٹ میٹرنگ پالیسی کا دفاع، نیٹ بلنگ پر منتقلی روکنے کا اعلان
اے این پی کے میاں افتخار حسین نے اس حملے کا الزام پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ذمہ داران پر لگایا اور مطالبہ کیا کہ حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج پر براہ راست فائرنگ نہایت تشویشناک ہے اور فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔
اس واقعے کے بعد اے این پی کے جلسے میں ہنگامہ آرائی علاقے میں سیاسی ماحول پر اثر ڈال رہی ہے اور انتظامیہ نے مستقبل کے جلسوں میں حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

















