06:08 , 20 اپریل 2026
Watch Live

طالبان حکومت کے ڈھانچے پر نئی رپورٹ کے چونکا دینے والے انکشافات

افغان طالبان رپورٹ انکشافات
افغان طالبان رپورٹ انکشافات

امریکی تحقیقاتی ادارے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں افغان طالبان کے حکومتی ڈھانچے سے متعلق اہم اور تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کی قیادت میں شامل 20 فیصد سے زائد افراد کا تعلق بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی سے رہا ہے، جس سے ان کے ماضی اور موجودہ کردار پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ادارے کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی موجودہ حکومت میں شامل کئی اہم رہنما ماضی میں شدت پسند سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، جو نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی برادری کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کی 33 رکنی کابینہ میں شامل 13 سے 14 ارکان ایسے ہیں جن کے نام اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند، نائب وزیراعظم، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی جیسے اہم نام بھی شامل ہیں۔

ایران کا امریکا کو سخت پیغام، بحری ناکہ بندی پر شدید ردعمل اور دباؤ مسترد

رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر طالبان سے وابستہ 135 افراد اور 5 ادارے عالمی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت ان افراد کے اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان پر سفری پابندیاں اور اسلحہ خریدنے پر بھی قدغن عائد ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی رپورٹس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے میں ابھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ اگرچہ طالبان قیادت عالمی برادری سے روابط بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ان کے ماضی کے کردار اور موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو پا رہی۔

 

 

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION