ایران کا امریکا کو سخت پیغام، بحری ناکہ بندی پر شدید ردعمل اور دباؤ مسترد

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ناکہ بندی کے ذریعے بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کو غیر منطقی مطالبات ماننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال اور جنگی جرائم کی دھمکیوں سے کسی بھی ملک کو جھکایا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتکاری کا دعویٰ کرنے والے ممالک کو عملی اقدامات بھی دکھانے ہوں گے۔
رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ الفاظ کی بازیگری سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے تنازعات حل ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی، خطے میں کشیدگی برقرار رہے گی۔
You cannot keep violating the international law, double down on your blockade, threaten Iran with further war crimes, insist on unreasonable demands, pace out with rethorics and pretend to be pursuing "Diplomacy”.
As long as the naval blockade remains, faultlines remain.
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) April 19, 2026
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کا دفاع کرے گا اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا نے ایک ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ جہاز اب امریکی تحویل میں ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر کی گئی۔ ان کے مطابق ایرانی جہاز امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے اور عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی ترسیل، پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔













