02:00 , 16 مئی 2026
Watch Live

علی خورشیدی کی سندھ حکومت پر کرپشن اور بدانتظامی پر تنقید

علی خورشیدی

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران سندھ کے وسائل پر ڈاکا مارنے والوں کو پکڑنے کے بجائے انہیں بچا رہے ہیں۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ 18 برس سے ایک ہی جماعت حکمرانی کر رہی ہے، لیکن گورننس کے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

علی خورشیدی نے کہا کہ جب بھی گورننس یا بدانتظامی کے معاملات اٹھائے جاتے ہیں تو حکومتی ترجمان پریشان ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے نتائج پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ صورتحال ایسی ہوگئی ہے کہ ادارے کا نام تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔ مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ اسسٹنٹ کمشنر کی پوسٹنگ کیلئے کروڑوں روپے دیے جاتے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ امتحانی پرچوں کا لیک ہونا بھی صوبے میں بدانتظامی کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ نتیجتاً شفافیت اور اعتماد بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

علی خورشیدی نے سولر پراجیکٹس میں مبینہ کرپشن پر بھی تنقید کی اور کہا کہ عوام کے پیسے لوٹے گئے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومتی وزرا دعویٰ کرتے ہیں کہ گندم چوری نہیں ہوئی بلکہ اربوں روپے کی گندم چوہے کھا گئے۔ اس کے باوجود کئی وزرا اس معاملے کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستانی ثالثی میں امریکا سے مذاکرات ناکام نہیں ہوئے، عباس عراقچی

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے تقریباً ہر محکمے میں گورننس کے سنگین مسائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق منشیات کے پھیلاؤ کی وجہ سے خاندان تباہ ہو رہے ہیں جبکہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات کے باوجود وزیرداخلہ کو اعزازات کیوں دیے جا رہے ہیں۔

علی خورشیدی نے کشمور کندھ کوٹ پل، حب ڈیم کے پانی اور دیگر عوامی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی مشکلات حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات نیٹ ورک کے پیچھے موجود عناصر کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ آخر میں کہا جا رہا ہے کہ علی خورشیدی کی سندھ حکومت پر کرپشن اور بدانتظامی پر تنقید نے صوبے کی سیاسی فضا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION