01:50 , 16 مئی 2026
Watch Live

ٹرمپ کی ایران کو معاہدے سے متعلق ایک بار پھر سخت دھمکی

ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کی سرگرمیوں سے آگاہ ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ صورتحال انتہائی سنجیدہ ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے ایران یہ انٹرویو دیکھ رہا ہوگا۔ ان کے مطابق امریکا کو معلوم ہے کہ ایران نے زیر زمین کچھ میزائل نکالے ہیں۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام اہداف ایک ہی دن میں تباہ کیے جا سکتے ہیں۔ نتیجتاً انہوں نے ایران کو واضح انتباہ جاری کیا۔

امریکی صدر نے ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق سوال پر کہا کہ اسے واپس لینے کی ضرورت نہیں، سوائے عوامی تعلقات کے نقطۂ نظر سے۔ ان کے مطابق اس معاملے کی اہمیت زیادہ تر سیاسی اور سفارتی نوعیت کی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی ثالثی میں ایران-امریکا مذاکرات جاری، مگر مشکلات برقرار، عباس عراقچی

واضح رہے کہ اس سے قبل سابق امریکی صدر باراک اوباما نے بھی ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ اوباما نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایران کا معاملہ بغیر کسی میزائل حملے کے حل کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے دور میں زیادہ سفارتی طریقہ اپنایا گیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے بیانات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پہلے ہی تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ مزید یہ کہ اس طرح کے بیانات عالمی سفارتکاری پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔

آخر میں کہا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو معاہدے سے متعلق ایک بار پھر سخت دھمکی نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION