امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کی سرگرمیوں سے آگاہ ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ صورتحال انتہائی سنجیدہ ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے ایران یہ انٹرویو دیکھ رہا ہوگا۔ ان کے مطابق امریکا کو معلوم ہے کہ ایران نے زیر زمین کچھ میزائل نکالے ہیں۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام اہداف ایک ہی دن میں تباہ کیے جا سکتے ہیں۔ نتیجتاً انہوں نے ایران کو واضح انتباہ جاری کیا۔
امریکی صدر نے ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق سوال پر کہا کہ اسے واپس لینے کی ضرورت نہیں، سوائے عوامی تعلقات کے نقطۂ نظر سے۔ ان کے مطابق اس معاملے کی اہمیت زیادہ تر سیاسی اور سفارتی نوعیت کی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی ثالثی میں ایران-امریکا مذاکرات جاری، مگر مشکلات برقرار، عباس عراقچی
واضح رہے کہ اس سے قبل سابق امریکی صدر باراک اوباما نے بھی ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ اوباما نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایران کا معاملہ بغیر کسی میزائل حملے کے حل کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے دور میں زیادہ سفارتی طریقہ اپنایا گیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے بیانات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پہلے ہی تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ مزید یہ کہ اس طرح کے بیانات عالمی سفارتکاری پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔
آخر میں کہا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو معاہدے سے متعلق ایک بار پھر سخت دھمکی نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔