پاکستان کی ثالثی میں ایران-امریکا مذاکرات جاری، مگر مشکلات برقرار، عباس عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات مکمل طور پر ناکام نہیں ہوئے، تاہم یہ عمل اس وقت مشکلات کا شکار ہے۔
نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ اپنے دفاع میں اقدامات کیے، اور اب بھی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش جاری ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں رکاوٹوں کا ذمہ دار ایران نہیں ہے، بلکہ یہ راستہ صرف ان ممالک کے لیے محدود ہے جو ایران کے خلاف جنگ میں شامل تھے۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ ایرانی بحریہ کئی بھارتی جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کر رہی ہے اور اس حساس علاقے میں بارودی سرنگوں کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے۔
فوجی راستہ ناکام، دھمکیوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا، عباس عراقچی
انہوں نے مزید کہا کہ ایران صرف اسی صورت میں مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے جب دوسرا فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، جبکہ امریکا کی جانب سے متضاد پیغامات اعتماد کی فضا کو متاثر کر رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کا نیوکلیئر پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور 2015 جوہری معاہدہ میں اس بات کے شواہد بھی پیش کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے، تاہم باہمی عدم اعتماد اور امریکی رویے کے باعث یہ عمل ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے، لیکن ایران اب بھی سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے۔












