04:29 , 16 مئی 2026
Watch Live

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر کی اشتعال انگیز کارروائی، پرچم لہرا دیا گیا

مسجد اقصیٰ

ایتامار بن گویر نے ہزاروں اسرائیلیوں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر اشتعال انگیز کارروائی کی اور وہاں اسرائیلی پرچم لہرا دیا۔ اس واقعے کو خطے میں ایک نئی کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مزید برآں اس اقدام کو فلسطینیوں نے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق اس موقع پر اسرائیلی فورسز نے پرانے شہر میں سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ فلسطینیوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی اور متعدد دکانیں زبردستی بند کروا دی گئیں۔ اس کے علاوہ مسجد اقصیٰ کے اطراف بھاری ناکہ بندی بھی کی گئی۔

یروشلم ڈے کے موقع پر ہونے والے اس مارچ میں شریک اسرائیلی قوم پرستوں نے اشتعال انگیز اور نسل پرستانہ نعرے لگائے۔ رپورٹس کے مطابق اس دوران فلسطینی شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ نتیجتاً علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا غزہ میں حماس کمانڈر عزالدین الحداد کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

یہ مارچ 1967 میں مشرقی بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کی یاد میں منعقد کیا جاتا ہے۔ فلسطینی عوام اسے اپنی زمین، شناخت اور مقدس مقامات کے خلاف کھلی اشتعال انگیزی قرار دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ دن ہر سال تنازع اور تناؤ میں اضافہ کرتا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے مسجد اقصیٰ میں ہونے والی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی عرب نے کہا کہ مقدس مقامات کی بے حرمتی ناقابل قبول ہے اور اسرائیلی اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

آخر میں کہا جا رہا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر کی اشتعال انگیز کارروائی، پرچم لہرا دیا گیا نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدہ صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION