شرجیل انعام میمن نے کراچی میں بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تنقید اور سیاست اپنی جگہ، حکومت ترقیاتی کام جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں جدید طرز کے اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتالوں، جامعات اور عوامی منصوبوں پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔
منشیات کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ ملزمہ انمول پنکی ایک خطرناک نیٹ ورک کا حصہ تھی، تاہم وہ کسی کا نام نہیں لینا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں منشیات کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، حالانکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات فروشی کئی لوگوں کے لیے ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔ میڈیا سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منشیات کو گلیمرائز نہ کیا جائے کیونکہ اس کے استعمال سے روز قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
صوبائی وزیر کے مطابق حکومت مختلف بحالی مراکز پر کام کر رہی ہے، تاہم یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ایک منشیات کے عادی نوجوان نے اپنے گھر والوں پر فائرنگ کی، جس سے اس مسئلے کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے اعلان کیا کہ 23 مئی کو شاہراہ بھٹو کا مکمل افتتاح کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی جیسے بڑے اور مصروف شہر میں ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنانا آسان نہیں، کیونکہ یہ شہر ایک ملک کے برابر ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر لاکھوں افراد رہتے ہیں، جنہیں بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کوشش ہے کہ اگست تک مکسڈ ٹریفک لین کا کام مکمل کر لیا جائے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور پاکستان کی پہلی پنک بس اور پنک اسکوٹی جیسے منصوبے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔