01:13 , 17 مئی 2026
Watch Live

28ویں آئینی ترمیم سے متعلق رانا ثناء اللہ کی وضاحت

رانا ثناء اللہ

وفاقی وزیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ  نے کہا ہے کہ ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم صرف بنیادی نوعیت کے قومی مسائل پر مشتمل ہوگی اور اس میں افواج پاکستان سے متعلق کوئی شق شامل نہیں ہوگی۔

 پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک 27 آئینی ترامیم ہوچکی ہیں اور آئندہ ترمیم 28ویں ہی ہوگی، اس پر کوئی اختلاف نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف معاملات پر بات چیت جاری ہے اور ہر فرد کا نقطہ نظر مختلف ہوسکتا ہے، تاہم توجہ اہم قومی مسائل پر مرکوز ہے۔

رانا ثناء اللہ کے مطابق این ایف سی، آبادی اور پانی کی تقسیم جیسے اہم مسائل زیر غور ہیں اور ان پر مختلف زاویوں سے غور کیا جا رہا ہے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بہترین علاج مل رہا ہے، رانا ثناء اللہ

انہوں نے واضح کیا کہ ان مسائل میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے حل کرنے کے لیے لازمی طور پر آئینی ترمیم درکار ہو، اگر اتفاق رائے پیدا ہو جائے تو دیگر طریقوں سے بھی حل ممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ووٹر کی عمر بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے کیونکہ ووٹ دینا ایک اہم ذمہ داری ہے، جسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارتی حکومت سے ناراض نہیں اور بلاول بھٹو کا یہ کہنا درست ہے کہ ان کی حمایت کے بغیر کوئی ترمیم ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی معاملے پر اتفاق رائے ہوگا تو وہی 28ویں آئینی ترمیم کی صورت اختیار کرے گا اور کچھ معاملات پر جلد فیصلہ بھی کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION