امریکہ کے 200 فوجی اسرائیل روانہ، غزہ میں جنگ بندی اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ تقریباً 200 فوجی اہلکاروں کو اسرائیل بھیج رہا ہے، جو غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی نگرانی، انسانی امداد کی فراہمی، اور سیکیورٹی و لاجسٹک تعاون کے لیے قائم کیے جانے والے سول-ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر کا حصہ ہوں گے۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ مرکز امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی سربراہی میں اسرائیل میں قائم کیا جائے گا، جہاں سے غزہ میں امدادی کارروائیوں، تعمیر نو اور سیکیورٹی معاملات کی نگرانی کی جائے گی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس مشن میں صرف امریکی فوجی ہی نہیں بلکہ شریک ممالک، غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) اور نجی شعبے کے ماہرین بھی شامل ہوں گے۔
ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق امریکی فوجی براہِ راست غزہ میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ اسرائیل میں رہتے ہوئے سیکیورٹی، منصوبہ بندی، لاجسٹکس، نقل و حمل اور انجینئرنگ کے امور میں معاونت فراہم کریں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ اہلکار دنیا کے مختلف حصوں سے آرہے ہیں اور ان کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ آئندہ چند دنوں میں یہ ٹیم مرکز کے قیام کے لیے ابتدائی منصوبہ بندی شروع کرے گی۔
یہ اقدام امریکہ کی غزہ میں جنگ کے بعد امن و استحکام کے لیے کردار کو واضح کرتا ہے، جس میں تعمیر نو، انسانی امداد اور علاقائی سیکیورٹی تعاون پر توجہ دی جا رہی ہے۔











