09:16 , 17 اپریل 2026
Watch Live

چوہدری سرور کا کشمیر پر فوری مذاکرات کا مطالبہ

چوہدری سرور

لاہور: سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کشمیر کے حالات کو انتہائی تشویشناک قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سنجیدہ قیادت اور دانشمندانہ حکمت عملی کی شدید ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا موجودہ حکومت نے کشمیری عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کا راستہ اپنایا۔ اس حکومتی رویے سے حالات مزید بگڑ گئے ہیں۔ چوہدری سرور کے مطابق کشمیر میں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے درینہ مطالبات کا فوری اور جامع حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ طاقت کے استعمال سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ مزید پیچیدہ بنے گا۔ چوہدری سرور نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور حالات کو سنجیدگی سے دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں صرف مذاکرات ہی ایک پائیدار راستہ ہیں۔ امن اور استحکام کی طرف بڑھنے کے لیے اعتماد بحال کرنا ہوگا۔

چوہدری سرور نے واضح کیا کہ وہ گزشتہ پچاس برسوں سے کشمیری کمیونٹی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کشمیریوں کی پاکستان سے محبت اور وفاداری کسی شک سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ مگر اب وہ مایوسی اور ناانصافی کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے ساتھ انصاف کرے۔

مزید برآں، انہوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ تمام کشمیری قیادت سے فوری مذاکرات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے بات چیت ہی بہترین راستہ ہے۔ چوہدری سرور کے مطابق کشمیری عوام کے حقوق کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ صرف زبانی دعووں سے امن ممکن نہیں ہو سکتا۔ سنجیدہ اور عملی اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔

آخر میں چوہدری سرور نے زور دیا کہ دیر نہ کی جائے ورنہ نقصان ناقابل تلافی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی اور کشمیر کے مسئلے پر واضح پالیسی اپنانا ضروری ہے۔ اگر اب بھی آنکھیں بند رکھی گئیں تو حالات مکمل طور پر قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت دانشمندی کا مظاہرہ کرے گی۔ مذاکرات سے ہی کشمیر میں دیرپا امن کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION