09:20 , 17 اپریل 2026
Watch Live

2025 میں قومی اسمبلی کی کارکردگی کی تفصیلات سامنے آگئیں

قومی اسمبلی 2025 کارکردگی

اسلام آباد – قومی اسمبلی کی سال 2025 کی کارکردگی سامنے آگئی ہے۔ سال بھر قانون سازی میں حکومت کی برتری واضح رہی۔ قومی اسمبلی میں 42 سرکاری بلز اور 49 پرائیویٹ ممبرز بلز پیش کیے گئے۔ تاہم، صرف 31 قوانین منظور ہو سکے، جس سے منظور شدہ قوانین اور پیش کیے گئے بلز میں فرق ظاہر ہوتا ہے۔

اسی دوران، 11 تحریکِ التواء موصول ہوئیں لیکن تمام مسترد کر دی گئیں۔ سال بھر میں 6,694 اسٹارڈ سوالات میں سے صرف 1,442 کے جوابات دیے گئے۔ اس سے پارلیمانی جوابدہی کی کمی اور محدود نگرانی کا پتہ چلتا ہے۔ مزید برآں، 336 عوامی توجہ دلانے والے نوٹسز موصول ہوئے، لیکن صرف 53 پر بحث ہوئی۔ اجلاس اکثر ملتوی ہوتے رہے جس سے قانون سازی میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔

کمیٹیوں کا کردار محدود رہا، 6 بلز کمیٹیوں کے سپرد کیے گئے، 9 مسترد اور 16 زیر التوا ہیں۔ رول 259 کے تحت 295 میں سے صرف 55 تحاریک ایجنڈے میں شامل ہوئیں۔ یہ صورتحال حکومت کی عداد و شمار میں بالادستی کو ظاہر کرتی ہے۔ اپوزیشن قانون سازی میں کمزور رہی اور زیادہ تر محض تقریریں اور احتجاج تک محدود رہی۔

سال بھر اپوزیشن زیادہ تر نعروں اور احتجاج تک محدود رہی۔ 1,395 سوالات ایڈمٹ ہوئے مگر جوابات نہ ملنے کی وجہ سے ضائع ہوئے۔ 285 سوالات مسترد یا جمع ہی نہیں کرائے جا سکے۔ اس سے پارلیمانی عمل میں کارکردگی کی کمی واضح ہوئی۔

مجموعی طور پر، سال 2025 میں قانون سازی کا عمل حکومت کے ایجنڈے کے مطابق رہا۔ اپوزیشن کا اثر محدود رہا۔ ماہرین کے مطابق، یہ صورتحال پارلیمانی جوابدہی اور فعال اپوزیشن کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ قومی اسمبلی کی کارکردگی میں بہتری کے لیے مزید شفافیت اور توازن کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION