ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں مسلسل چوتھا ماہ خسارہ

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مسلسل چوتھے ماہ بھی اپنے ٹیکس اہداف پورے کرنے میں ناکام رہا ہے۔ نومبر میں مجموعی طور پر 878 ارب روپے اکٹھے کیے گئے، جو مقررہ ہدف 1,034 ارب روپے سے 156 ارب روپے کم ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ماہ کے آخری کاری دن میں کچھ اضافی وصولی کا امکان ہے لیکن اس کے باوجود ہدف حاصل نہیں ہو پائے گا۔
مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران بھی ایف بی آر مطلوبہ ٹارگٹ سے پیچھے رہا۔ اس عرصے میں 4,715 ارب روپے جمع کیے گئے، جبکہ مقررہ ہدف 5,083 ارب روپے تھا۔ معاشی مشکلات، مہنگائی، درآمدات میں کمی اور گزشتہ برس کے سیلاب کے اثرات کو اس خسارے کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔
گزشتہ مہینوں میں بھی کارکردگی کمزور رہی۔ صرف جولائی وہ مہینہ تھا جس میں ایف بی آر نے 757 ارب روپے جمع کرکے معمولی بہتری دکھائی، جبکہ اگست، ستمبر اور اکتوبر میں اہداف حاصل نہ ہوسکے۔ ستمبر میں 1,325 ارب روپے کے مقابلے میں صرف 1,228 ارب روپے وصول کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : ایف بی آر کا مختلف شعبوں میں ٹیکس آڈٹ کا آغاز
دسمبر کے لیے حکومت نے 1,406 ارب روپے کا ہدف رکھا ہے، جو آئی ایم ایف سے طے شدہ ترمیم شدہ سالانہ ریونیو پلان کا حصہ ہے۔ ملک بھر کے لیے سالانہ مجموعی ہدف بھی اقتصادی نقصانات اور سیلاب کے اثرات کے باعث کم کرکے 13.9 کھرب روپے کر دیا گیا ہے، جو پہلے 14.13 کھرب روپے تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل خسارے کی وجہ سے ترمیم شدہ سالانہ ہدف پورا کرنا بھی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
پانچ ماہ کا واضح شارٹ فال پورا کرنے کے لیے سخت انتظامی اقدامات اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری ناگزیر ہے۔ شدید مالی دباؤ کے دوران ملکی ریونیو میں یہ کمی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔











