11:47 , 30 اپریل 2026
Watch Live

وفاقی وزیر: سیلاب ٹیکس پر غور، لیکن منی بجٹ نہیں ہوگا

وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر شیخ نے کہا ہے کہ سیلاب سے متعلق اضافی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کسی منی بجٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پہلے سے منظور شدہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے تمام اخراجات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب حکومت سیلاب ٹیکس کے لیے "فلیڈ لیوی بل” لانے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت درآمدی اشیا پر اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز ہے، حالانکہ موجودہ بجٹ میں کئی ٹیکسوں میں کمی کی گئی تھی۔

قیصر شیخ نے یہ بات برطانوی ہیلتھ کمپنی "ہیلون” کی رپورٹ کی تقریب رونمائی کے دوران کہی، جہاں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو قوی نصیر نے بھی کہا کہ ہر سال پالیسیوں میں تبدیلی کاروباری طبقے کے لیے نقصان دہ ہے، سرمایہ کاری کے لیے استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل بہت ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہیلون نے 2022 کے معاشی بحران کے دوران بھی سرمایہ کاری جاری رکھی، اور 2024 میں 27 ارب روپے کا معیشت میں حصہ ڈالا۔ کمپنی نے 6,600 ملازمتوں کا سہارا دیا، 11 ارب روپے جی ڈی پی میں شامل کیے، اور 5.1 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔

وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے تقریب میں کہا کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے بعد اب برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ پانچ سال میں اضافی کسٹمز ڈیوٹیز ختم کرے گی اور اس مالی سال میں تین بجلی کمپنیوں اور پی آئی اے کو نجی شعبے میں منتقل کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION