02:43 , 23 جون 2026
Watch Live

خیبر میں مبینہ گھریلو تشدد کا شکار فرانسیسی خاتون 5 بچوں سمیت بازیاب

فرانسیسی خاتون بازیاب

خیبر کی تحصیل باڑہ میں مبینہ گھریلو تشدد کا شکار ایک فرانسیسی خاتون کو ان کے پانچ بچوں سمیت بازیاب کرا لیا گیا۔ پولیس کے مطابق خاتون کو مبینہ طور پر گھر میں محدود رکھا گیا تھا اور ان پر تشدد کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ فرانسیسی خاتون بازیاب ہونے کے بعد انہیں اور ان کے بچوں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 18 جون کو اطلاع ملی تھی کہ تھانہ باڑہ کی حدود میں ایک غیر ملکی خاتون کو مبینہ گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ گھر پر چھاپہ مارا اور خاتون کو بازیاب کرا لیا۔

پولیس کے مطابق 54 سالہ سلوی یاسمینہ نے ایک پاکستانی شہری سے شادی کی تھی اور وہ 2014 سے باڑہ میں مقیم تھیں۔ ان کے پانچ بچے ہیں جن میں ایک بچہ قوتِ سماعت اور گویائی سے محروم ہے۔ خاتون نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ ان کے شوہر کی جانب سے مسلسل بدسلوکی کی جاتی تھی اور انہیں گھر سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں تھی۔

مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ میں کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص

خاتون کے بیان کے بعد پولیس نے انہیں اور ان کے بچوں کو مزید تحفظ، طبی معائنے اور قانونی معاونت کے لیے ویمن پولیس اسٹیشن پشاور منتقل کر دیا۔ حکام کے مطابق خاندان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں اور دیگر حکام سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔

پولیس نے خاتون کے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔ دفتر خارجہ کے ذریعے فرانسیسی سفارت خانے کو بھی واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ڈی پی او خیبر وقار احمد کے مطابق خاتون نے فرانس واپس جانے کی خواہش ظاہر کی ہے، جس کے لیے سفارتی اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فرانسیسی خاتون بازیاب کیس کے تمام پہلوؤں کی مکمل چھان بین کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION