پاکستان کو سات ارب ڈالر کے توسیعی قرض سہولت کے تحت ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط مل گئی ہے۔ ساتھ ہی آئی ایم ایف نے اگلی قسط کے لیے نئی شرائط اور مطالبات کی فہرست بھی ارسال کی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شرائط سے معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور عوام کی زندگی مشکل ہو سکتی ہے۔
نئی شرائط میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، پاور سبسڈی میں 143 ارب روپے کمی اور پیٹرول و ڈیزل پر لیوی میں اضافہ شامل ہے۔ حکومت نے پیٹرول پر مزید لیوی لگانے اور سبسڈی میں کمی کی تیاری کر لی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا گیا تو مہنگائی کی نئی لہر آئے گی۔
آئی ایم ایف نے مالی نظم و ضبط کے تحت حکومت کے اخراجات اور سرکاری اداروں کے خسارے کم کرنے کا ہدف دیا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے سے معیشت کی رفتار بہتر ہو سکتی ہے۔ ٹیکسوں کے اضافے سے صرف آمدن میں عارضی اضافہ ہوگا اور معیشت کی مجموعی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا کام صرف معاشی استحکام میں معاونت ہے۔ پائیدار ترقی اور اصلاحات حکومت کی ذمہ داری ہیں تاکہ عوام اور کاروباری طبقے کو سہولت ملے۔ معاشی استحکام کے لیے بنیادی اصلاحات اور غیر ضروری اخراجات میں کمی ضروری ہے۔
آئی ایم ایف قرض پروگرام کی مجموعی شرائط 64 تک پہنچ گئی ہیں۔ تیسرا اقتصادی جائزہ مارچ 2026 میں ہوگا، جس سے پہلے حکومت کو متعدد اہداف پورے کرنا ہوں گے۔ ان شرائط پر عمل درآمد سے نہ صرف قرض کی اگلی قسط ملے گی بلکہ معیشت کی صورتحال بھی مستحکم ہو سکتی ہے۔













