ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے کو تیار ہے، یہ دعویٰ امریکی میڈیا نے کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران تمام ضروری یقین دہانیاں دینے پر آمادہ ہے جبکہ وہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کا حق بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ تاہم یہ رابطے ابھی باقاعدہ مذاکرات کی سطح تک نہیں پہنچے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔
مزید برآں ایران صرف جنگ بندی تک محدود حل پر نہیں بلکہ طویل مدتی استحکام کے لیے تجاویز سننے کو تیار ہے۔ مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی کوششیں مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا سے براہ راست بات چیت کا مطالبہ نہیں کیا۔ تاہم وہ ایسے معاہدے پر غور کرسکتا ہے جو اس کے قومی مفادات کا تحفظ کرے۔ ساتھ ہی ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ بھی کسی بھی معاہدے کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔
آخر میں، ایران جوہری ہتھیارنہ بنانے کی ضمانت دینے کو تیار ہونے کا عندیہ دیتا ہے جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اگر جامع معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ صورتحال میں بہتری اور استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔