08:02 , 4 مئی 2026
Watch Live

بارشوں کے باوجود لاہور کا پانی ری چارج نہ ہو سکا

لاہور میں بارشوں کے باوجود زیر زمین پانی کی سطح بہتر نہیں ہو سکی۔ محکمہ ایریگیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق حالیہ بارشوں میں صرف 15 لاکھ لیٹر پانی ہی ری چارج ہو سکا جبکہ باقی پانی گٹروں اور نالوں میں بہہ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پانی کی سطح مزید خطرناک حد تک کم ہو جائے گی۔

ڈاکٹر زاکر حسین سیال نے بتایا کہ لاہور کے مختلف علاقوں میں پانی کی سطح ہر سال ایک سے چار فٹ تک نیچے جا رہی ہے۔ گلبرگ میں پانی کی سطح 125 سے 130 فٹ تک گر چکی ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں یہ ڈیڑھ سو فٹ تک جا پہنچی ہے۔ پینے کے پانی کے لیے یہ سطح 700 سے 800 فٹ یا اس سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور میں تقریباً 1500 سے 1800 ٹیوب ویل مسلسل پانی کھینچ رہے ہیں جس سے پانی کی کمی تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ جس تیزی سے پانی زمین سے نکالا جا رہا ہے، اس حساب سے بارش کا پانی ری چارج ہونا ناکافی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے بڑے ڈیمز کے ساتھ ساتھ انڈر گراؤنڈ ڈیمز اور ری چارجنگ سسٹمز کی ضرورت ہے۔

شہر میں سڑکوں، گلیوں اور تعمیرات کے باعث بارش کا زیادہ تر پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر یہی پانی محفوظ کر کے ری چارجنگ کے لیے استعمال کیا جائے تو پانی کی سطح بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ لاہور میں سالانہ بارش کا صرف 2 سے 3 فیصد پانی ہی ری چارجنگ کے کام آ رہا ہے، باقی سب ضائع ہو رہا ہے۔

ماہرین نے تجویز دی ہے کہ ہر سرکاری و نجی اسکول، کالج، یونیورسٹی اور ہاؤسنگ سوسائٹی میں ری چارجنگ کنویں بنائے جائیں۔ گرین بیلٹس، ڈونگی گراؤنڈز اور واٹر گیلریز کے ذریعے بھی بارش کا پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو لاہور میں پانی کی قلت شدید بحران کی شکل اختیار کر لے گی۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION