ناسا کا چاند پر بیس اور مریخ مشن کے لیے بڑے منصوبوں کا اعلان

امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند اور مریخ سے متعلق اپنے نئے اور بڑے منصوبوں کا اعلان کر دیا ہے، جس میں مستقبل کی خلائی مہمات کی حکمت عملی واضح کی گئی ہے۔
ایک تقریب کے دوران ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین نے بتایا کہ چاند پر مستقل بیس کی تعمیر فوری طور پر ممکن نہیں بلکہ آئندہ 7 برسوں میں مکمل کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر تقریباً 20 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے اور اس کی تکمیل درجنوں خلائی مشنز کے ذریعے مرحلہ وار ہوگی۔
جیراڈ آئزک مین نے مریخ کے لیے جوہری توانائی سے چلنے والے اسپیس کرافٹ کی تیاری کا بھی اعلان کیا، جسے 2028 تک روانہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
ناسا کا بڑا اعلان، 2030 تک چاند پر نیوکلیئر ری ایکٹر نصب کرنے کا منصوبہ
انہوں نے بتایا کہ ناسا نے چاند کے مدار میں اسپیس اسٹیشن بنانے کا منصوبہ ختم کر دیا ہے اور اب توجہ چاند کی سطح پر سرگرمیوں پر مرکوز کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین خلائی میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور وہ امریکا کی برتری کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ناساکے منتظم کے مطابق جب یہ اسپیس کرافٹ مریخ پر پہنچے گا تو وہاں تحقیق کے لیے ہیلی کاپٹرز بھیجے جائیں گے، تاہم خلا بازوں کی چاند پر واپسی میں تاخیر ہو رہی ہے کیونکہ اسپیس ایکس ابھی تک مطلوبہ لینڈرز تیار نہیں کر سکی۔



















