11:10 , 23 جون 2026
Watch Live

پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2300 ارب تک پہنچنے کا خدشہ

پاور سیکٹر

اسلام آباد: رواں مالی سال کے دوران پاکستان کے پاور سیکٹر کا گردشی قرض 735 ارب روپے کے اضافے کے ساتھ 2300 ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت گردشی قرضہ زیرو ان فلو پر رکھنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، موجودہ مالی سال میں گردشی قرضہ 16,615 ارب روپے سے بڑھ کر ممکنہ طور پر 23,500 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت 120 ارب روپے کی پرنسپل ریپیمنٹس کرے گی جبکہ 400 ارب روپے حکومتی پاور پلانٹس اور آئی پی پیز کو ادا کر کے اسٹاک زیرو برقرار رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت کا گیس کی قیمت میں بڑا اضافہ

سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کے مطابق، ریبیسنگ سے 55 ارب روپے وصول ہوں گے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کم کرنے سے 18 ارب روپے حاصل ہوں گے اور بہتر ریکوریز کے بعد مزید 121 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے۔

ان اقدامات کے بعد رواں مالی سال کے لیے پاور سیکٹر کا گردشی قرض زیرو ان فلو پر برقرار رہے گا، جس سے مالی استحکام کو یقینی بنانے اور آئی ایم ایف کے معاہدے کی شرائط پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

حکومت کا مقصد ہے کہ گردشی قرض کے مسلسل بڑھنے کو روکا جائے اور بجلی کی قیمتوں اور ادائیگیوں کے نظام میں شفافیت کے ذریعے پاور سیکٹر کی مالی حالت مستحکم کی جائے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION