سگریٹ فلٹر بنانے والا خام مال اسمگل ہونے کا انکشاف

سگریٹ فلٹر بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال کی اسمگلنگ کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2023 میں جو میٹریل درآمد کیا گیا، اس کا بڑا حصہ غیر قانونی سگریٹ بنانے میں استعمال ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ درآمد کیے گئے میٹریل سے 60 سے 80 ارب سگریٹ بنائے جا سکتے تھے، لیکن قانونی طور پر صرف 39 ارب سگریٹ تیار کیے گئے۔ نجی سگریٹ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ باقی 41 ارب سگریٹ غیر قانونی طریقے سے تیار کیے گئے۔
ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 37 ارب سگریٹس پر ٹیکس لیا گیا، جو اس دعوے سے بھی کم ہے کہ قانونی طور پر 39 ارب سگریٹ بنائے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری ہوئی ہے۔
ماہرین اور صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بارڈر پر نگرانی کا نظام بہتر ہونا چاہیے اور درآمدات کا ریکارڈ زیادہ شفاف طریقے سے رکھنا چاہیے تاکہ میٹریل کی اسمگلنگ روکی جا سکے۔
رپورٹس میں تجویز دی گئی ہے کہ فیکٹریوں کی پیداوار پر سخت نگرانی رکھی جائے اور بارڈر کنٹرول کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ غیر قانونی سگریٹ کا کاروبار بند کیا جا سکے اور حکومت کو ٹیکس کا نقصان نہ ہو۔












