سعودی عرب کی مشرق وسطیٰ میں عدم جارحیت معاہدے کی تجویز

برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ کے ممالک اور Iran کے درمیان عدم جارحیت سے متعلق معاہدے کی تجویز پیش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ریاض نے اس تجویز پر اتحادی ممالک سے بات چیت بھی شروع کر دی ہے تاکہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے بعد خطے کی صورتحال کو سنبھالا جا سکے۔
اخبار کے مطابق سعودی عرب 1970 کی دہائی کے Helsinki Accords کو ایک ممکنہ ماڈل کے طور پر دیکھ رہا ہے، جس نے سرد جنگ کے دوران یورپ میں کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
سعودی عرب کا فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے 20 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان
خلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ کسی بھی جنگ کے بعد ایران اگرچہ کمزور ہوگا، مگر زیادہ سخت گیر رویہ اختیار کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق کئی یورپی ممالک نے اس سعودی تجویز کی حمایت کی ہے اور دیگر خلیجی ممالک کو بھی اس کی پشت پناہی کرنے پر زور دیا ہے۔
تاہم اس معاہدے کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ اس میں کون سے ممالک شامل ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں Iran اور Israel کو ایک میز پر لانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر اسرائیل اس معاہدے کا حصہ نہ بنا تو یہ اقدام الٹا نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے اور خطے میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
















