سپریم کورٹ نے 9 مئی کیسز میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منظور کرلی

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔ عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ زبانی اور الیکٹرانک شواہد کے علاوہ استغاثہ کے پاس اور کیا ثبوت موجود ہیں۔ جسٹس شفیع صدیقی نے ایف آئی آر کی تاریخ کے بارے میں بھی سوال کیا۔
پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ایف آئی آر 9 مئی کو درج ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ دس میں سے تین مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کو نامزد کیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ پولیس نے وائس میچنگ، فوٹو گرامیٹک اور پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے مجسٹریٹ سے اجازت لی تھی۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت کی اجازت کے باوجود ملزم نے یہ ٹیسٹ نہیں کروائے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسا ہے تو قانونی نتائج ہوں گے، لیکن یہ بھی سوال اٹھایا کہ ان ٹیسٹوں پر اتنا اصرار کیوں کیا جا رہا ہے۔
جسٹس حسن رضوی نے نشاندہی کی کہ واقعے کے بعد ملزم دو ماہ تک ضمانت پر رہا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ وقت پولیس کو تفتیش مکمل کرنے کے لیے کافی نہیں تھا؟ عدالت نے واضح کیا کہ شواہد ٹرائل کورٹ میں ثابت کیے جائیں گے۔
آخر میں سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ چیف جسٹس نے دونوں فریقین کے وکلاء کو اپنے چیمبر میں طلب کیا تاکہ تحریری فیصلہ ان کی موجودگی میں مکمل کیا جا سکے۔











